نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)

یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)

۔۔۔۔
اُڑان قاتل ہے یہ سفر تو اِسی میں اِک دن
عذاب راتوں کے قافلوں کو صبحِ منزل اُجال لے گی
تلاشِ منزل کی اِس لگن میں، اگرچہ پائوں پہ آبلے ہیں
مگر یقیں ہے، مجھے یقیں ہے
کہ حشر تک بھی وہ ساری آنکھیں کھلی رہیں گی
جنھیں سحر کی کسی تمنا نے رَت جگوں کا ملال بخشا
مجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے
یہ خوں کے دریا رواں نہ ہوں گے
دیارِ اقدس کے زرد آنگن میں بسنے والی مائوں کی لوریوں کو زباں ملے گی
مجھے یقیں ہے
یہ قتل گاہوں کے خوُنی منظر ، جوان لاشے
یہ بین کرتے سُلگتے آنچل،دریدہ دامن ، یہ جلتے غُنچے
نئے سویرے کی تاب ناکی ، اُفق پہ لائیں گے بن کے سورج
مجھے یقیں ہے اے ارضِ اقدس!
یہ ساری کوفی و شامی چالیں ، عدو کے سارے طلسم خانے
ستم کے سارے یزید منظر
نہیں رہے ہیں ، نہیں رہیں گے نہیں رہیں گے
بلند ہو گا، حسینیؑ پرچم
مجھے یقیں ہے
قفیس سے ابُھرے گا ایک سورج
کہ جس کے سر پر سُنہری کرنوں کا تاج ہو گا
رہائی پائیں گے قید موسمِ حسیں بہاروں کا راج ہو گا
مجھے یقیں ہے ، مجھے یقیں ہے، گھڑی قریں ہے
گُلِ رہائی کِھلے گا جس پر، یہی زمیں ہے
یہ کہہ رہے ہیں جو ان جذبے
نشانِ منزل یہیں کہی ہے
مجھے یقیں ہے ، مجھے یقیں ہے

Related posts

Leave a Comment